يونس ۱۰:۲۴
يونس ۱۰:۲۴
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَـٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَـٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَـٰهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہوکر نکلی۔ یہاں تک کہ جب وه زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل وه موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں.
يونس ۱۰:۲۴ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi
منظر
آیت تین مرحلوں کی ایک تمثیل بُنتی ہے: (۱) بارش برستی ہے، پودے لہلہاتے ہیں — فراوانی؛ (۲) زمین اپنا «زُخْرُف» (سنگھار) پہن لیتی ہے اور اُس کے باشندے خود کو «قٰدِرُوْنَ عَلَیْہَا» (اُس پر قابو رکھنے والے) سمجھنے لگتے ہیں — اختیار کا فریب؛ (۳) حکم آ پہنچتا ہے، «کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ» (گویا کل وہ تھی ہی نہیں) اور کھیت کاٹ لیا جاتا ہے۔ پوری ایک زندگی تین لمحوں میں سمٹ آتی ہے: نمود، خوشحالی کا فریب، اور اچانک انجام۔ «قَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ» — اِس چکر کو دیکھنے کے لیے تفکر چاہیے۔
مشاہدہ
پودے کی نشو و نما کا چکر ماحولیات میں خوب معلوم حقیقت ہے: بارش، پھر انکھوا، پھر نمو، پھر فصل یا سوکھنا، پھر واپس آغاز پر۔ پورا نباتاتی غلاف یہ حلقہ ایک زرعی سال کے اندر پورا کرتا ہے؛ آیت کا «گویا وہ کل تھی ہی نہیں» ایک سالانہ حیاتیاتی حقیقت ہے۔ انسانی نفسیات میں «قابو کا وہم» (لینگر، ۱۹۷۵) — اُن نظاموں پر ہمارے فرض کیے ہوئے **بظاہر قابو** کی غیر حقیقت جنہیں ہم مستحکم سمجھتے ہیں — آیت کے «قَادِرُونَ عَلَیْہَا» کو روزمرہ مشاہدے کی زبان میں بیان کرتا ہے۔
تفسیر
الرازی (مفاتیح الغیب) دکھاتے ہیں کہ دنیا کو پودے سے تشبیہ دینے کا انداز قرآن میں بار بار آتا ہے (۳:۱۴، ۱۸:۴۵، ۳۹:۲۱)؛ ہر بار زور کسی مختلف پہلو پر ہوتا ہے۔ یہاں زور **خوشحالی سے اچانک انجام تک کے تیز گزر** پر ہے۔
مآخذ
تفسیر: الرازی · مفاتیح الغیب۔ سائنس: نباتاتی ماحولیات، قابو کا وہم (سماجی نفسیات)۔