الأعراف ۷:۱۴۳
الأعراف ۷:۱۴۳
وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَـٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَـٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں۔
الأعراف ۷:۱۴۳ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi
منظر
تین مرحلوں کا ایک منظر: (۱) موسیٰؑ کہتے ہیں «مجھے دکھا دے»؛ (۲) «تُو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا؛ پہاڑ کی طرف دیکھ — اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا…»؛ (۳) تجلی آتی ہے، پہاڑ «دَکًّا» (ریزہ ریزہ) ہو جاتا ہے، موسیٰؑ بےہوش گر پڑتے ہیں۔ «جَبَل» — پہاڑ؛ مگر یہاں اُسے ثبات کے پیمانے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ اگر پہاڑ — زمین کی سب سے زیادہ ثابت نظر آنے والی ساخت — ایک تجلی نہیں سہہ سکتا تو موسیٰؑ کا بدن بھی نہیں سہہ سکتا۔ آخر میں موسیٰؑ کہتے ہیں «اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ» (میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں) — علم بدل گیا، مقام بدل گیا۔
مشاہدہ
زلزلہ شناسی میں چٹانی توڑوں کی بوجھ اٹھانے کی حد محدود ہے: زیادہ توانائی والی لرزش کے تحت جوڑ کا تانا بانا ٹوٹ جاتا ہے اور توڑا بکھر جاتا ہے۔ پہاڑ طویل ارضیاتی زمانی پیمانوں پر مستحکم دکھائی دیتے ہیں، مگر ایک قوت کے سامنے وہ «سخت» نہیں بلکہ **بھربھری** ساختیں ہیں۔ آیت کا «دَکًّا» (چُور چُور کر دیا گیا) اِس طبیعی حقیقت کو بصری صورت میں دیتا ہے؛ جدید ارضی طبیعیات اُسے نئے سرے سے وضع نہیں کرتی، مشاہدے کی زبان میں تصدیق کرتی ہے کہ جو ثابت دکھائی دیتا ہے وہ حقیقت میں نازک ہے۔
تفسیر
القرطبی (الجامع لأحکام القرآن) کی رائے ہے کہ یہ منظر موسیٰ کے، اللہ کو حق کے طور پر جاننے میں، ایک «علم کی جست» کا نشان ہے — درخواست + درخواست کا رد + دلیل + توبہ۔ الرازی زور دیتے ہیں کہ تجلی پہاڑ پر پڑتی ہے، موسیٰ کی آنکھ پر نہیں: دلیل ایک واسطہ بننے والی نشانی کے ذریعے آئی۔
مآخذ
تفسیر: القرطبی · الجامع لأحکام القرآن؛ الرازی · مفاتیح الغیب۔ سائنس: چٹان کی میکانیات، زلزلاتی بوجھ برداری۔