لقمان ۳۱:۳۲
لقمان ۳۱:۳۲
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں ۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں.
لقمان ۳۱:۳۲ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi
منظر
«مَوْجٌ كَالظُّلَلِ» — ایسی لہر جو «سائبانوں کی مانند» ہو۔ عربی میں «ظُلَل» دھوپ سے بچنے کی چھاؤں، ایک بلند ڈھکی ہوئی ساخت ہے (چھت والی نشست، سایہ دار صحن)؛ آیت لہر کو افقی نہیں بلکہ ایک عمودی سائے کے طور پر بیان کرتی ہے — اوپر سے گھیرتی ہوئی، روشنی کاٹتی ہوئی۔ «مُقْتَصِد» — درمیان والا، نہ پورا انکار کرنے والا نہ پورا مان لینے والا؛ مصیبت کے بعد کچھ کھلے انکار کی طرف مڑ جاتے ہیں، کچھ پورے ایمان کی طرف، اور کچھ درمیان میں رہ جاتے ہیں۔ آیت ۱۰:۲۲ کا زیادہ متعین تسلسل ہے: دعا، نجات، اور اُس کے بعد کا حال۔
مشاہدہ
جہاز کے عرشے سے دیکھی گئی بلند سمندری موجیں (۸ سے ۱۲ میٹر) واقعی «سائبان» جیسی صورت بناتی ہیں — خاص طور پر جب موج کی سطح ہوا کے عمود پر کھڑی ہو؛ بحری آب نگاری میں اِسے معروف «سرکش موج» کا مظہر کہا جاتا ہے۔ آیت کا «کَالظُّلَل» (سائبانوں کی طرح) اِس بصری حقیقت کو مشاہدے کی زبان میں دیتا ہے؛ استعارہ نہیں، جہاز رانی کی روایت کی حقیقی گواہی۔
تفسیر
البیضاوی (أنوار التنزیل) کی رائے ہے کہ لفظ «مقتصد» تنگی سے آسانی کی طرف گزر میں انسانی رویّے کی تین قسموں کا خلاصہ کرتا ہے۔ الرازی اس آیت کو ۱۰:۲۲ کے ساتھ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں — دونوں ایک ہی منظر کے دو زاویے ہیں۔
مآخذ
تفسیر: البیضاوی · أنوار التنزیل؛ الرازی · مفاتیح الغیب۔ سائنس: بحری آب نگاری (بلند موجوں کا منظر، سرکش موجیں)۔