التكوير ۸۱:۱

التكوير ۸۱:۱

إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا.

التكوير ۸۱:۱ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi

منظر

سورۃ التکویر بارہ پے در پے «اِذَا» (جب) کے جملوں سے شروع ہوتی ہے۔ ہر جملہ قیامت کے دن کا ایک منظر ہے۔ پہلے تین کائناتی ہیں۔ «كُوِّرَتْ» — لپیٹا جانا، جیسے پگڑی لپیٹی جاتی ہے یا طومار سمیٹا جاتا ہے۔ «انكَدَرَتْ» — ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانا۔ «سُيِّرَتْ» — چلا دیا جانا، اپنی جگہ سے ہٹا دیا جانا۔ تین فعل، اور ایک کائناتی انجام کا پورا خلاصہ۔

مشاہدہ

ستاروں کی عمر جدید فلکی طبیعیات میں خوب ثابت شدہ ہے۔ ہمارے سورج جیسے درمیانی کمیت والے ستارے اپنا ہائیڈروجن ایندھن ختم کرنے کے بعد «سرخ دیو» کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں، پھر اپنی بیرونی تہیں جھاڑ کر سفید بونوں میں سمٹ جاتے ہیں — گویا «لپیٹ» کر اپنے اندر سکڑ جاتے ہیں۔ زیادہ بھاری ستارے سپرنووا کے دھماکوں میں بکھر جاتے ہیں۔ «کُوِّرَتْ» اور «انْکَدَرَتْ» کے افعال اِن دو انجاموں کی لغت کے پہلو میں رکھے جا سکتے ہیں۔ آیت یہ نہیں کہتی کہ کب؛ وہ کہتی ہے کہ ستارے ہمیشہ رہنے والے نہیں۔

تفسیر

ابن عباس سے منسوب ایک روایت «کُوِّرت» کی تفسیر یوں کرتی ہے کہ سورج کی روشنی سمیٹ کر بجھا دی جائے گی۔ مفسرین اِن مناظر کی لسانی کثافت پر بھی تبصرہ کرتے ہیں: بارہ مختصر جملے بغیر کسی حرفِ ربط کے یکے بعد دیگرے رکھے گئے ہیں، جس سے اُس دن کی رفتار پڑھنے والے کی سانس میں محسوس ہوتی ہے۔ آیت ایک دعوت ہے — جو بھی اِس انجام پر غور کرتا ہے، وہ آج کو مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔

مآخذ

تفسیر: ابن عباس سے منسوب روایت (کلاسیکی تفسیری نقول)؛ محمد بن جریر الطبری، جامع البیان۔ سائنس: فلکی طبیعیات — ستاروں کا ارتقا (سرخ دیو، سفید بونا، سپرنووا؛ اتفاقِ عام)۔

← النازعاتقرآن پڑھیں →الطارق →