الزمر ۳۹:۴۲
الزمر ۳۹:۴۲
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.
الزمر ۳۹:۴۲ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi
منظر
آیت دو طرح کی «وفات» کو پہچانتی ہے: «يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا» (موت کے وقت) اور «الَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا» (وہ جو مری نہیں، اُس کی نیند میں)۔ پس نیند بھی ایک طرح کا روح قبض کرنا ہے، مگر ایسی جو پلٹ سکتی ہے۔ اللہ ایک کو روک لیتا ہے (موت)، دوسری کو چھوڑ دیتا ہے (بیداری)۔ نیند اور موت کے درمیان کی باریک لکیر ایک ہی جملے میں دکھا دی گئی ہے؛ یہ دو الگ مظاہر نہیں بلکہ درجے کا فرق ہیں۔
مشاہدہ
جدید نیند کی حیاتیات میں گہری نیند (NREM مرحلہ ۳) کے دوران شعور معطل ہو جاتا ہے، حرکی افعال روک دیے جاتے ہیں، پٹھوں کا کھنچاؤ گرتا ہے اور یادداشت پختہ ہوتی ہے — ایک ایسی حالت جس میں بدن ظاہراً لاش سے مشابہ ہو جاتا ہے۔ دماغی تنے کے افعال (سانس، دورانِ خون) جاری رہتے ہیں، مگر شعور اور ارادی حرکت وقتی طور پر معطل رہتے ہیں۔ EEG پر گہری نیند کے دوران دماغی لہریں سُست ہوتی ہیں اور جاگنے پر تیزی سے بحال ہو جاتی ہیں۔ آیت کی تعبیر — نیند میں جان لے لینا اور واپس بھیج دینا — حیاتیاتی نیند اور بیداری کے چکر کو مشاہدے کی زبان میں کہتی ہے؛ آیت سائنس سے پہلے کوئی خبر نہیں دیتی، اُس کا مشاہدہ بانٹتی ہے۔
تفسیر
الرازی (مفاتیح الغیب) کی رائے ہے کہ نیند اور موت کی مشابہت قرآن کی دلیلِ قیامت کا پیش خیمہ ہے — جو شخص ہر رات نیند سے بیدار ہوتا ہے، اُسے ایک بار بڑی بیداری کی طرف بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ابن کثیر (تفسیر القرآن العظیم) اسی دلیل کو ۶:۶۰ سے جوڑتے ہیں: «وہی ہے جو رات کو تمہیں موت دیتا ہے۔»
مآخذ
تفسیر: الرازی · مفاتیح الغیب؛ ابن کثیر · تفسیر القرآن العظیم۔ سائنس: نیند کی حیاتیات (NREM، شعور کی معطلی، EEG)۔