طه ۲۰:۵۵

طه ۲۰:۵۵

۞ مِنْهَا خَلَقْنَـٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ

اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے.

طه ۲۰:۵۵ · ترجمہ: Muhammad Junagarhi

منظر

ایک ہی جملہ، تین فعل: «خَلَقْنٰکُمْ» (ہم نے تمہیں پیدا کیا)، پھر «نُعِیْدُکُمْ» (ہم تمہیں لوٹاتے ہیں)، پھر «نُخْرِجُکُمْ» (ہم تمہیں نکالتے ہیں)۔ تینوں کا مفعول ایک ہی ضمیر ہے: اُسی سے، اُسی میں، اُسی سے — یعنی زمین۔ انسان کی ابتدا، واپسی اور دوسری بار نکلنا، سب ایک ہی مادّے اور ایک ہی جگہ سے ہے۔ «تَارَۃً اُخْرٰی» (ایک اور بار) — یہ دائروی واپسی نہیں بلکہ دوسرا اخراج ہے۔ آیت تین الگ زمانی تہوں (ماضی، مستقبل، دوبارہ) کو ایک ہی جگہ (زمین) میں جمع کر دیتی ہے۔

مشاہدہ

حیاتی ارضی کیمیا کی رُو سے انسانی بدن کی عنصری ترکیب زمین کی ترکیب کے بالکل متوازی ہے: تقریباً ۶۵٪ آکسیجن، ۱۸٪ کاربن، ۱۰٪ ہائیڈروجن، ۳٪ نائٹروجن، اور اِن کے ساتھ کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، سلفر، سوڈیم، کلورین، میگنیشیم، لوہا… سب زمین کے قشر اور سمندروں میں موجود۔ موت کے بعد تحلیل بدن کے عناصر کو مٹی، فضا اور آبی چکر کو واپس کر دیتی ہے۔ آیت کا بیان «مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ، فِیْہَا نُعِیْدُکُم» (ہم نے تمہیں اُسی سے پیدا کیا، اُسی میں لوٹائیں گے) اِسی عنصری چکر کو مشاہدے کی زبان میں نام دیتا ہے۔

تفسیر

الرازی (مفاتیح الغیب) اس آیت کو ۲:۲۸ اور ۷۱:۱۷-۱۸ کے ساتھ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں — تینوں **زمین ← جسمانی زندگی ← زمین ← قیامت** کے چار مرحلوں والے چکر کو بیان کرتی ہیں۔ القرطبی (الجامع لأحکام القرآن) کہتے ہیں کہ تفسیری روایت اس پر متفق ہے کہ «تارۃً اخریٰ» سے مراد آخرت ہے۔

مآخذ

تفسیر: الرازی · مفاتیح الغیب؛ القرطبی · الجامع لأحکام القرآن؛ سائنس: حیاتی-ارضی کیمیا (انسانی جسم اور قشرِ ارض کے عناصر کے درمیان مماثلت)۔

← الإسراءقرآن پڑھیں →الأنبياء →